Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

علقمہ نام کا مطلب نیز یہ نام رکھنا کیسا؟

Answered by
مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
Fatwa no.
4335-WAT
Issued
23 ربيع الآخر 1447 - 17 اکتوبر 2025. دار الافتاء اهلسنت

Question

علقمہ نام رکھنا کیسا ؟ جواب علقمہ نام رکھنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی)

Answer (beginning)

علقمہ نام رکھنا درست ہے بلکہ یہ مستحب ناموں میں سے ہے کیونکہ یہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی کا نام ہے اور حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ہے ۔ لہذا ان کی نسبت سے اگر علقمہ نام رکھا جائے گا تو اس حدیث پاک پر عمل بھی ہوگا اور ان شاء الله عز وجل ان کی برکتیں بھی نصیب ہوں گی۔ الاعلام للزرکلی میں ہے ” (مجزر بن الأعور)۔۔۔ وابنه (علقمة) من الصحابة“ یعنی : مجزر بن اعور اور ان کے بیٹے علقمہ صحابہ میں سے ہیں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.