Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

غیر مسلم درزی سے سوٹ سلوانا کیسا؟

Fatwa no.
4331-WAT
Issued
22 ربيع الآخر 1447هـ / 16 اکتوبر 2025. دار الافتاء اهلسنت

Question

غیر مسلم درزی سے سوٹ سلوانا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی درزی غیر مسلم ہو، تو کیا اس سے اجرت پر سوٹ سلائی کروا سکتے ہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

قادیا نیوں سے تو کسی طرح کے معاملات کرنے کی بھی شرعا اجازت نہیں ہے ، لہذا ان سے سوٹ سلائی نہیں کروا سکتے ۔ البتہ ! اصلی کفار یعنی عیسائی وغیرہ سے محض معاملات کرنا جائز ہے، لہذا ان سے اجرت پر سوٹ سلائی کروانا بھی جائز ہے ، لیکن ان سے دوستانہ تعلقات رکھنے کی اجازت نہیں ہے ۔ نیز یہ یادر ہے کہ جہاں مسلمان درزی میسر ہو ، وہاں حتی الا ما کن مسلمان ہی سے معاملات کرنے چاہیں ، لہذا اسی سے سوٹ سلائی کروانا چاہیے کہ اس میں مسلمان کو مالی مدد پہنچانا ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.