Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
فلاں کام کروں تو زنا کروں کہنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا اعظم عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4329-WAT
- Issued
- 21 ربیع الآخر 1447 / 15 اکتوبر 2025. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)
Question
یوں کہنے کا حکم کہ : فلاں کام کروں تو زنا کروں دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ اگر کوئی بندہ قسم اٹھائے کہ "اگر میں نے یہ کام کیا تو اپنی بیٹی سے زنا کیا ۔ " پھر اس کے بعد قسم توڑ دے اور توڑنے سے پہلے بول دے کہ میں یہ قسم توڑتا ہوں ، اس کا میں کفارہ ادا کروں گا ۔ تو اس کے اوپر کیا لاگو ہوگا ؟ جواب
Answer (beginning)
سوال میں بیان کردہ الفاظ قسم کے الفاظ نہیں ہیں، لہذا ان سے نہ تو قسم منعقد ہوئی اور نہ ہی وہ کام کرنے سے قسم کا کفارہ لازم ہوا ۔ البتہ ! اس طرح کے غلیظ جملے کہنے سے بچنا چاہیے ۔ فتح القدیر میں ہے ”إن قال إن فعلت كذا فهوزان أو فاسق أو سارق أو شارب خمرا أو آكل رب الا يكون يمينا ترجمہ : اگر کوئی شخص کہے کہ اگر میں فلاں کام کروں تو زانی یا فاسق یا چوریا شرابی یا سود خور ہوں، تو اس سے قسم نہیں ہوگی ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.