Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
تجھے فلاں سے خدا بھی نہیں بچا سکتا کہنے کا حکم
Question
یہ جملہ "تجھے فلاں سے خدا بھی نہیں بچاسکتا " کہنے کا حکم دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص مزاح با مذاق کے طور پر یہ جملہ کہے تجھے فلاں شخص سے خدا بھی نہیں بچا ستھا" تو شریعت کی روشنی میں ایسے الفاظ کہنا کیسا ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
سوال میں مذکورہ جملہ کفر ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا انکار اور کسی مخلوق کے مقابلے میں اُسے عاجز ٹھہرانا ہے ، جو کہ شان انہی میں صریح گستاخی ہے ، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے ، ہر مخلوق پر غالب ہے ، اور وہ ہر قسم کے عجز ، کمزوری ، عیب اور نقائص سے پاک ہے ۔ اُس پر کوئی چیز غالب نہیں آسکتی ۔ اگر چہ ایسا جملہ مزاحاً یا مذاق میں کہا گیا ہو، تب بھی کفریہ ہونے سے خارج نہیں ہوتا، مذاق سے کلمہ کفر بونا بھی کفر ہے ۔ لہذا ایسا جملہ کہنے والے پر توبہ و استغفار، تجدید ایمان اور نکاح ہونے کی صورت میں تجدید نکاح لازم ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.