Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
پاگل کتے کی خرید و فروخت کرنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا محمد حسان عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4322-WAT
- Issued
- 19 ربیع الآخر 1447ء 13 اکتوبر 2025. دار الافتاء اهلسنت
Question
پاگل کتے کی خرید و فروخت کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایسا کتا جو سدھانے کے قابل نہیں ہوتا اور غصے میں کسی کو بھی کاٹ لیتا ہے ، ایسے کتے کی خرید و فروخت کا کیا حکم ہو گا ؟ اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں ۔ جواب
Answer (beginning)
پاگل اور کاٹ کھانے والے کتے کی خرید فروخت کرنا شرعاً درست نہیں بلکہ ایسے وحشی، کاٹ کھانے اور نقصان پہنچانے والے کتے کو مارنے کا حکم دیا گیا ہے ، جس طریقے سے کم سے کم تکلیف ہو، ایسے طریقے سے اسے مار دیا جائے مثلا اسے دوائی وغیرہ دے کر بے ہوش کر کے ذبح کر دیا جائے ۔ تفصیل : معلم و غیر معلم ( یعنی سدھائے ہوئے اور غیر سدھائے ہوئے ) دونوں طرح کے کتوں کی بیچ درست ہے ، لیکن جو سدھا یا ہوا نہیں ، اس کی بیچ صحیح ہونے کے لئے ضروری ہے کہ وہ سدھانے کے قابل ہو، لہذا کا ٹنے والا، پاگل کتا ، جو سدھانے کے قابل نہیں ہوتا ، اس کی بیع جائز نہیں ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.