Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
شادی میں گھوڑی نچوانے کی رسم کرنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا محمد حسان عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4320-WAT
- Issued
- 19 ربیع الآخر 1447ء 13 اکتوبر 2025. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)
Question
شادی میں گھوڑی نچوانے کی رسم کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) شادی میں گھوڑی نچوانے کی رسم کیسی ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
گھوڑی نچانے کی رسم ، جو عام طور پر شادی کے موقع پر دولہے کو گھوڑے پر سوار کر کے ، ڈھول کی تھاپ پر ناچتے ہوئے دلہن کے گھر لے جانے کی شکل میں ادا کی جاتی ہے ، اس میں ڈھول کی تھاپ پر گھوڑی کو بھی نچوایا جاتا ہے ، اس رسم میں ڈھول باجے ، موسیقی، ناچ گانا، فضول خرچی، اور غیر مردو عورت کا اختلاط شامل ہوتا ہے ۔ لہذا اس رسم کی شرعاً اجازت نہیں ۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا : " ليكونن من أمتى أقوام يستحلون الحر والحرير والمعازف“ ترجمه : ضرور میری امت میں کچھ قومیں ایسی ہوں گی، جو زنا اور ریشمی کپڑوں اور باجوں کو حلال ٹھہرالیں گی ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.