Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

غیر مسلم کو ٹیکسی میں اس کی عبادت گاہ تک لے جانا

Fatwa no.
4314-WAT
Issued
15 ربیع الثانی 09/1447اکتوبر 2025. كامالانية الملاك

Question

مسلمان ٹیکسی ڈرائیور کا غیر مسلم کو اس کی عبادت گاہ تک لے کر جانا دارالافتاءاهلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی مسلمان ٹیکسی ڈرائیور ہو اور اسے کوئی غیر مسلم کہے کہ مجھے چرچ یا کسی دوسری غیر مسلم کی عبادت گاہ چھوڑ دو، تو کیا وہ مسلمان اسے چھوڑ سکتا ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

سلمان ٹیکسی ڈرائیور کا کسی غیر مسلم کو اس کے عبادت خانے لے جانا جائز نہیں ہے ، کہ یہ گناہ پر مدد کرنا ہے ، جس سے اللہ تعالی نے قرآن پاک میں منع فرمایا ہے ، اور جو کام نا جائز ہو اس پر اجارہ بھی ناجائز ہوتا ہے ۔ الله تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے : (وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَان) ترجمہ کنز العرفان : اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو ۔ (القرآن ، سورۃ المائدۃ، پارہ 6 ، آیت : 2) اس آیت کے تحت امام ابو بکر احمد الجصاص علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں : "نهي عن معاونة غيرنا على معاصی الله تعالى" ترجمہ : آیت کریمہ میں اللہ تعالی کی نافرمانی والے کاموں میں دوسرے کی مددکرنے سے منع کیا گیا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.