Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ضرار نام رکھنا اور اس کا مطلب

Answered by
مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
Fatwa no.
4312-WAT
Issued
15 ربیع الثانی 1447ء /09اکتوبر 2025ء

Question

بچے کا نام ضرار رکھنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) صحابی رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم حضرت ضرار بن از ور رضی اللہ تعالی عنہ کی نسبت سے ضرار نام رکھنا درست ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

صحابی رسول صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم ورضی اللہ تعالی عنہ کی نسبت اور برکت حاصل کرنے کے لئے ضرار نام رکھ سکتے ہیں کہ صالحین کے ناموں پر نام رکھنے کی حدیث پاک میں ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور اس سے امید ہے کہ ان کی برکت بچے کے شامل حال ہوگی ۔ الفردوس بماثور الخطاب میں ہے ”تسموا بخیار کم “ ترجمہ : اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58 ، حدیث : 2328 ، دار الكتب العلمية، بيروت) فتاوی رضویہ میں ہے حدیث سے ثابت کہ محبوبان خدا، انبیاء و اولیاء علیہم الصلوۃ والثناء کے اسمائے طیبہ پر نام رکھنا مستحب ہے جبکہ ان کے مخصوصات سے نہ ہو ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.