Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

انسانی بال پانی میں گر جائے تو پانی کا حکم؟

Answered by
ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
Fatwa no.
4311-WAT
Issued
15 ربیع الثانی 1447ء 109 اکتوبر 2025. كان الامية الملاك

Question

انسانی بال پانی میں گر جائے تو پانی پاک رہے گا ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر جسم کے غیر ضروری بال بالٹی میں گر جائیں تو پانی پاک رہے گا یا ناپاک ہو جائے گا ؟ جواب

Answer (beginning)

جسم کے غیر ضروری بال بالٹی میں گر جائیں تو اس سے پانی ناپاک نہیں ہو گا بشر طیکہ اس پر کوئی نجاست نہ لگی ہو کیونکہ انسان کے جسم کے تمام بال پاک ہیں اور پاک چیز پانی میں گرنے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا۔ فتاوی قاضی خان میں ہے " " وشعر الآدمي طاهر في ظاهر الرواية إذا وقع في الماء القليل لا يفسد الماء " ترجمہ : اور آدمی کا بال ظاہر الروایۃ میں پاک ہے جب قلیل پانی میں گرے گا تو اس پانی کو فاسد نہیں کرے گا ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.