Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اشراق و چاشت کی نماز کے لیے فجر کے بعد جاگنا ضروری ہے؟
- Answered by
- مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4310-WAT
- Issued
- 14 ربیع الثانی 1447 /108اکتوبر 2025. كامالاوي ملات
Question
کیا اشراق و چاشت کی نماز کے لئے فجر کے بعد جاگتے رہنا ضروری ہے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر فجر کی نماز پڑھ کے سو گئے ہیں ، جب اٹھے ہیں تو اشراق و چاشت کا ٹائم ہے تو کیا اس وقت اشراق و چاشت کی نماز پڑھ سکتے ہیں ؟ یا ان دونوں نمازوں کے لیے فجر کے بعد سونا نہیں ہوتا اور اگر سو گئے تو نماز نہیں پڑھ سکتے ہیں ، جیسے تہجد کے لیے سونا ضروری ہے تو یہاں جاگتے رہنا تو ضروری نہیں ؟ جواب
Answer (beginning)
فجر کی نماز پڑھ کر اشراق و چاشت کی نماز کے لیے جاگتے رہنا ہی ضروری نہیں ہے، لہذا اگر کوئی فجر کی نماز پڑھ کر سوگیا اور اٹھنے کے بعد اشراق و چاشت کا وقت ابھی باقی ہے تو اس وقت میں بھی اشراق و چاشت پڑھ سکتا ہے، البتہ ! افضل یہی ہے کہ فجر کی نماز کے بعد ذکر و اذکار میں مشغول رہیں، یہاں تک کہ اشراق کا ٹائم ہو جائے اور پھر اشراق پڑھیں ۔ اور چاشت کی نماز کے لیے افضل وقت یہ ہے کہ چوتھائی دن چڑھے پڑھے ، لہذا چاہیں تو اشراق پڑھ کر سو جائیں اور چوتھائی دن چڑھے چاشت پڑھ لیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.