Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کفار کے گناہ کرنے پر انہیں گناہ ملتا ہے یا نہیں؟
- Fatwa no.
- 4307-WAT
- Issued
- 14 ربیع الثانی 1447 / 08 اکتوبر 2025. كان الامية الملاك
Question
کفار گناہ والے کام کے مرتکب ہوں تو انہیں اس پر گناہ ملتا ہے دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا کفار کو گناہ ملتا ہے ؟ اگر وہ نمازی کے آگے سے گزریں ۔ جواب
Answer (beginning)
جی ہاں ! اگر کافر نمازی کے آگے سے گزرے ، تو اسے بھی گناہ ملے گا اور وہ اس کی وجہ سے بھی عذاب کا مستحق ہوگا کیونکہ کفار بھی مسلمانوں کی طرح شرعی احکامات کے مکلف ہیں۔ کفار بھی فروعات کے مکلف ہیں، علامہ ابن عابدین شامی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں : ” والراجح عليه الاكثر من العلماء على التكليف لموافقته لظاهر النصوص فليكن هذا هو المعتمد “ ترجمہ : اور راجح یہ ہے اور اسی پر اکثر علما ہیں کہ کفار فروعات کے مکلف ہیں اس لیے کہ نصوص کے ظاہر کے موافق یہی موقف ہے ، پس اسی پر اعتماد کرنا چاہیئے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.