Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا مقتدی کے عمل کثیر سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟

Answered by
مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
Fatwa no.
4306-WAT
Issued
10 ربیع الآخر 1447 - 041 اکتوبر 2025. دار الافتاء اهلسنت

Question

عمل کثیر سے مقتدی کی نماز بھی فاسد ہو جائے گی دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر مقتدی نے عمل کثیر کیا تو کیا اس کی نماز فاسد ہو جائے گی یا پھر امام کے پیچھے ہونے کی وجہ سے فاسد نہیں ہوگی ؟ جواب

Answer (beginning)

اگر مقتدی نے عمل کثیر کیا تو اس کی بھی نماز فاسد ہو جائے گی کہ مفسد نماز کے ارتکاب سے بہر صورت نماز فاسد ہو جاتی ہے ، اس میں منفر داور مقتدی کسی کی کوئی تخصیص نہیں ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے ”اذا تکلم فی صلاته ناسياً أو عامدا خاطئاًأوقاصدا، قليلا أو كثيرا تكلم لا صلاح صلاته بأن قام الامام في موضع القعود فقال له المقتدى "اقعد"أو قعد فى موضع القيام فقال له "قم" اولا لاصلاح صلاته ويكون الكلام من كلام الناس استقبل الصلاة عندنا ترجمہ : جب کوئی آدمی نماز میں کلام کرے ، خواہ بھول کر یا جان بوجھ کر، خطا کے طور پر کرے یا قصداً، کم ہویا زیادہ ، خواہ اس کا کلام نماز کی اصلاح کے لئے ہو مثلاً امام کو بیٹھنا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.