Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

گاڑی کی مائل ایج کم کرکے بیچنا کیسا؟

Answered by
مولانا محمد حسان عطاری مدنی
Fatwa no.
4304-WAT
Issued
10 ربیع الآخر 1447ھ /04 اکتوبر 2025ء

Question

گاڑیوں کے کاروبار کرنے والے آدمی کا گاڑیوں کی مائلج کم کرنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) گاڑیوں کا کاروبار کرنے والا جب کسی دوسرے ملک سے گاڑی منگواتا ہے تو وہ گاڑی کی مائلج کم کر دیتا ہے ، جس سے چلنے کی کم یا زیادہ مقدار ظاہر ہوتی ہے ، یہ عام طور پر دھوکہ دینے کے لیے کیا جاتا ہے تاکہ خریدار یہ سمجھے کہ گاڑی کم چلی ہے ، تو اس میں کم مسائل ہوں گے لیکن ہم خریدار کو بتا بھی دیتے ہیں کہ ہم نے مائلج اتنی کم کر دی ہے ۔ جواب

Answer (beginning)

عمومی طور پر خریدار کو مائل کا م کر دینا بتایا نہیں جاتا ، وہ یہی سمجھتا ہے کہ گاڑی کم چلی ہے ، لہذا وہ اس کے حساب سے رقم دیتا ہے، اگر یہ صورت ہو تو یہ جائز نہیں، کیونکہ یہ خریدار کو دھوکہ دینا ہے جو کہ ناجائز و حرام ہے ۔ ہاں ! اگر اس کو واضح کر دیا جائے کہ ہم نے اس قدر ما ئلج کم کی ہے ، اور خریدار پھر بھی اپنی مرضی سے گاڑی خرید لے تو اب حرج نہیں کہ اب دھوکہ نہیں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.