Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حج و عمرہ پر جاتے ہوئے رشتہ داروں سے معافی مانگنا
- Answered by
- مولانا اعظم عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4297-WAT
- Issued
- 12 ربیع الثانی 1447 هـ / 06 اکتوبر 2025. كامالاوي ملات
Question
حج و عمرہ پر جانے سے پہلے رشتہ داروں سے معافی مانگنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا حج یا عمرہ پہ جانے سے پہلے رشتہ داروں وغیرہ سے معافی مانگنا ضروری ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
جن لوگوں کے حقوق تلف کیے ، دل آزاریاں کیں، ان سے معافی ما نینا، جو حقوق ادائیگی کے قابل ہوں ان کی ادائیگی کرنا یا معاف کروانا وغیرہ بہر حال لازم ہے ، خواہ حج و عمرہ پر جائے یا نہ جائے ۔ پس اگر حج و عمرہ پر جانے والے نے اس وقت تک یہ معاملات نہیں کیے تو اب جانے سے پہلے کرلے ، لہذا جس کا قرض آتا ہو یا امانت پاس ہو ادا کر دے ، جن کے مال ناحق لیے ہوں واپس دے یا معاف کرائے ، پتا نہ چلے تو اتنا مال مالکوں کی نیت سے فقیروں کو دے دے ۔ چلتے وقت اپنے دوستوں عزیزوں سے ملے اور اپنے قصور معاف کرائے ، اور ان پر لازم ہے کہ دل سے معاف کردیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.