Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قرض دے کر مقروض کے مکان سے نفع اٹھانا

Answered by
مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
Fatwa no.
4295-WAT
Issued
12 ربیع الثانی 1447ء / 106اکتوبر 2025. امالاوي ملات

Question

قرض کے بدلے مقروض کے مکان میں بغیر کرائے کے رہنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) میرا پلاٹ ہے ، لیکن اوپر لگانے کے لیے پیسے نہیں ہیں ، میرا دوست ہے ، اس کو میں نے کہا ہے کہ آپ او پر پیسے لگا دیں جتنے بھی لگتے ہیں ، 15 لاکھ ، 20 لاکھ ، تو وہ کہتا ہے کہ جتنی دیر میں اس مکان میں رہوں گا کرایہ نہیں دوں گا ، اور جب آپ میرا قرضہ دے دیں گے ، اس وقت میں آپ کو کرایہ دینا شروع کروں گا ۔ تو کیا اس طرح جائز ہے پلاٹ پر مکان بنوانا ؟ جواب

Answer (beginning)

اس شرط پر قرض کا لین دین کرنا جائز نہیں ہے کہ جب تک قرض رہے گا، قرض دینے والا، مقروض کے گھر میں بغیر کرائے کے رہے گا، کیونکہ یہ قرض پر نفع لینا ہے اور قرض پر نفع لینا اسود ہے جو کہ ناجائز و حرام ہے ۔ حدیث پاک میں ہے "كل قرض جرمنفعة فوربا" ترجمہ : رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر وہ قرض جو نفع کھینچے تو وہ سود ہے ۔ (مسند الحارث، ج 1، ص 500، مرکز خد متة السنية والسيرة النبوية، المدينة المنورة) فتاوی رضویہ میں ہے "قول منفتح و محر واصل محقق و مقرر یہ ہے کہ بر بنائے قرض کسی قسم کا نفع لینا مطلقا سود و حرام ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.