Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نمازی کا اپنے لباس پر سجدہ کرنا کیسا؟

Answered by
مولانا اعظم عطاری مدنی
Fatwa no.
4293-WAT
Issued
09 ربیع الثانی 1447 / 03 اکتوبر 2025. كامالاوي ملات

Question

نمازی کا اپنے لباس پر سجدہ کرنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) عرض یہ ہے کہ یہ جو مسئلہ ہے کہ سجدہ اپنے لباس پر نہ کیا جائے جیسے آستین یا دامن یا دو پٹہ پر ایسا کرنا مکروہ ہے ۔ پوچھنا یہ ہے کہ کونسا مکروہ ہے، تنزیہی یا تحریمی ؟ اگر تحریمی ہے تو کیا نماز واجب الادا ہوگی ؟ جواب

Answer (beginning)

نمازی کے لیے بغیر کسی صحیح وجہ کے اپنے پہنے ہوئے لباس پر سجدہ کرنا مکروہ تنزیہی ہے جبکہ تکبر کے طور پر نہ ہو، اور اگر تکبر کے طور پر ہو تو مکروہ تحریمی ہے اور نماز واجب الاعادہ ہوگی ، اور اگر کوئی صحیح وجہ ہو مثلا گرمی یا سر دی وغیرہ سے بچنے کے لیے یا عمامے وغیرہ کو گرد سے بچانے کے لیے ایسا کیا تو مکروہ نہیں ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے "إذا بسط كمه وسجد عليه إن بسط ليقى التراب عن وجهه كره وإن بسط ليقى التراب عن عمامته وثيابه لا یکره ترجمہ : جب اس نے اپنی آستین بچھائی اور اس پر سجدہ کیا، اگر چہرے کو مٹی سے بچانے کے لیے بچھایا تو مکروہ ہے اور عمامے اور کپڑوں کو مٹی سے بچانے کے لیے بچھایا تو مکروہ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.