Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سفر کی نماز کا طریقہ
- Answered by
- مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4289-WAT
- Issued
- 08 ربیع الثانی 1447ء 02 اکتوبر 2025.
Question
سفر کی نماز کا طریقہ کیا ہے ؟ جواب سفر کی نماز کا طریقہ کیا ہے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی)
Answer (beginning)
شرعی سفر میں قصر نماز کا طریقہ یہ ہے کہ : ہر چار رکعت والی فرض نماز کی دورکعات پڑھے گا، اور دونوں رکعتوں میں منفر داور امام قراءت بھی کرے گا(سورہ فاتحہ اور ساتھ میں ایک چھوٹی سورت یا تین چھوٹی آیات یا ایک بڑی آیت جو چھوٹی تین آیات کے برابر ہو، اس کی تلاوت کرے گا ۔ ) مغرب کی نماز اور وتر کی نماز اسی طرح تین رکعات پڑھے گا، جیسے سفر کے علاوہ ، حالت اقامت میں پڑھی جاتی ہیں۔ اور سنتوں کے حوالے سے حکم یہ ہے کہ سنتوں میں قصر نہیں ہے ، ان کی ادائیگی کا وہی طریقہ ہے جو سفر کے علاوہ ، حالت اقامت میں ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.