Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

خروج بصنعہ کسے کہتے ہیں؟

Answered by
مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
Fatwa no.
4288-WAT
Issued
08 ربیع الثانی 1447ء / 02 اکتوبر 2025ء كان الامية الملاك

Question

خروج بصنعہ کی وضاحت دارالافتاءاهلسنت (دعوت اسلامی) خروج بصنعہ کسے کہتے ہیں ؟ اگر قصد اسلام پھیر نے سے پہلے بات کرلی تو نماز کا کیا حکم ہوگا؟ جواب

Answer (beginning)

خروج بصنعہ سے مراد یہ ہے کہ قعدہ اخیرہ کے بعد اپنے قصد و ارادے سے کوئی ایسا کام کرنا، جو نماز کے منافی ہو مثلا سلام ، کلام ، قصدا وضو توڑنا وغیرہ ۔ اور یہ یادر ہے کہ قعدہ اخیرہ کے بعد لفظ سلام کے ذریعے نماز سے نکلنا واجب ہے ، لفظ سلام کے علاوہ کوئی اور نماز کے منافی کام کیا تو ایسا کرنے والا گنہگار ہو گا اور اس سے نماز واجب الاعادہ ہوگی ۔ البحر الرائق میں ہے ”(والخروج بصنعه) أي الخروج من الصلاة قصداً من المصلي بقول أو عمل ينافي الصلاة بعد تمامها فرض“ ترجمہ : خروج بصنعہ فرض ہے ، اس سے مراد نمازی کا نماز کے تمام ارکان ادا کرنے کے بعد اپنے کسی منافی نماز قول یا عمل کے ذریعے سے قصداً نماز سے باہر…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.