Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بسم اللہ نہ پڑھنے کی صورت میں کھانے میں شیطان کے شریک ہونے کی وضاحت
- Answered by
- ابوالفیضان مولانا عرفان احمد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4284-WAT
Answer (beginning)
اگر کھانے کی ابتدا میں بسم اللہ شریف نہ پڑھی جائے ، تو وہ کھانا شیطان کے لیے حلال ہو جاتا ہے اور وہ کھانے میں شریک ہو جاتا ہے ، لیکن اس سے کھانا ناپاک نہیں ہوتا کیونکہ اس کھانے میں ظاہری طور پر نجاست شامل نہیں ہوتی ، نیز محض اسے کھانے سے وضو بھی نہیں ٹوٹتا کہ اس کے لیے مخصوص نواقض ہیں ، یہ ان میں سے نہیں ہے ، البتہ ! کھانے میں شیطان کی شمولیت سے برکت اٹھ جاتی ہے اور کھانا بے برکت ہو جاتا ہے ، لہذا کھانے کے شروع میں بسم الله پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.