Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

پولٹری فارم کا بزنس کرنے کا حکم

Answered by
مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
Fatwa no.
4283-WAT

Question

پولٹری فارم کا بزنس جائز ہے یا نہیں ؟ پولٹری فارم کا بزنس کرنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) جواب

Answer (beginning)

شرعا پولٹری فارم کا بزنس جائز ہے جبکہ شرعی قیودت کا لحاظ رکھا جائے مثلا مرغیوں کو بلا وجہ اذیت میں مبتلا نہ کیا جائے اور ان کے لیے پانی ، خوراک وغیرہ دیگر ضروریات کا خاطر خواہ اہتمام کیا جائے ، کیونکہ مرغیاں پالنا ، ان کے انڈے اور گوشت بیچنا فی نفسہ جائز اور مباح ہے ۔ سنن ابن ماجہ کی حدیث مبارک ہے " عن أبي هريرة رضی الله تعالى عنه ، قال : أمر رسول الله صلى الله تعالى عليه و آله وسلم الاغنياء باتخاذ الغنم وأمر الفقراء باتخاذ الدجاج“ یعنی : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے، فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے امیروں کو بکریاں پالنے اور غریبوں کو مرغیاں پالنے کا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.