Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

باوضو شخص بغیر ثواب کی نیت سے ہاتھ دھوئے تو پانی کا حکم

Answered by
مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
Fatwa no.
4280-WAT

Question

با و صنو شخص بغیر ثواب کی نیت سے ہاتھ دھوئے تو پانی کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) ایک شخص باوضو ہے ، اب اگر وہ ٹھہرے پانی میں ہاتھ دھونے کی نیت سے دوبارہ ہاتھ ڈالے اور یہ ڈالنا ثواب کا کام ہو تو وہ پانی مستعمل ہو جائے گا۔ لیکن اگر یہ کام ثواب کا تو ہو لیکن اس نے اس کام میں ثواب کی نیت نہ کی ہو اور اب ہاتھ ڈالے تو کیا اب بھی مستعمل ہو جائے گا؟ مثلا : کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا سنت ہے ، اس نے سنت کی نیت نہیں کی بلکہ ویسے ہی ہاتھوں پر میل کچیل تھی ، اسی وجہ سے اس کو صاف کرنے کے لئے ہاتھ ڈالا، توکیا تب بھی پانی مستعمل ہو جائے گا ؟ جبکہ پہلے سے باوضو تھا۔ جواب

Answer (beginning)

اگر کسی با وضو شخص نے کھانا کھانے سے پہلے یا کھانا کھانے کے بعد یا ویسے ہی ہاتھ منہ صاف کرنے کے لئے ہاتھ دھوئے اور ادائے سنت کی نیت نہ تھی تو اس سے پانی مستعمل نہیں ہوگا۔ مستعمل پانی کے متعلق تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے "ما استعمل () اجل (قرية) أى ثواب۔۔۔ (أو) لاجل (رفع حدث) ترجمہ : (مائے مستعمل سے مراد وہ پانی ہے) جس کو نیکی یعنی ثواب کے حصول کے لئے ، یا حدث کو دور کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہو ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.