Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قرآن کریم میں مشرقین اور مغربین سے کیا مراد ہے؟

Answered by
مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
Fatwa no.
4278-WAT
Issued
30 ربیع الاول 1447ھ /24 ستمبر 2025ء

Question

قرآن مجید میں مذکور مشرقین اور مغربین کی وضاحت دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) قرآن مجید میں مشرقین اور مغربین کا ذکر ہے اس سے کیا مراد ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

اس کی وضاحت میں بعض کتب تفسیر سے درج ذیل وضاحت ملی ہے : (1) گرمی اور سردی میں سورج دو مختلف مقامات سے طلوع اور غروب ہوتا ہے ، ان الفاظ سے سورج کے طلوع و غروب ہونے کے وہی گرمی اور سردی کے دو مقام مراد ہیں ۔ (2) دو مشرقوں میں سے پہلا مشرق سال کے سب سے لمبے دن میں سورج کے طلوع ہونے کا مقام اور دوسرے مشرق سے سال کے سب سے چھوٹے دن میں سورج کے طلوع ہونے کا مقام مراد ہے ، اور اسی طرح دو مغربوں کی تفصیل ہے۔ (3) ان سے سورج وچاند ، دونوں کے طلوع و غروب ہونے کے مقام مراد ہیں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.