Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بھانجی کی اولاد محرم ہے یا غیر محرم ؟
- Answered by
- مولانا محمد فراز عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4271-WAT
- Issued
- 05 ربیع الثانی 1447ء 29 ستمبر 2025. عام الامام اهلسنت
Question
بہن کی اولاد کی اولاد محرم ہوتی ہے یا غیر محرم ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) بہن کے بچوں کے بچے محرم ہوتے ہیں یا نہیں ؟ جواب
Answer (beginning)
جی ہاں ! اپنی بہن کے بچوں کے بچے بھی اپنے لیے محرم ہوتے ہیں۔ تفصیل اس میں یہ ہے کہ بھانجی محرمات (یعنی جن سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نکاح کرنا حرام ہو ، ان میں داخل ہے ، اس کی حرمت نص قطعی سے ثابت ہے اور فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق اس حرمت میں بالاجماع بھانجی کی اولاد در اولاد نیچے تک شامل ہے ۔ اسی طرح قرآن پاک میں خالائیں حرام فرمائی گئیں اور ان میں اپنی خالائیں بھی شامل ہیں اور اپنے ماں باپ کی خالائیں بھی شامل ہیں، لہذا بہن کے بچوں کے بچے بھی محرم ہوتے ہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.