Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نمازی کے سامنے سے بلی گزرنے سے نماز کا حکم

Fatwa no.
4270-WAT
Issued
02 ربیع الثانی 1447ء / 26 ستمبر 2025. دام الاحياء اهلسنت

Question

نمازی کے سامنے سے بلی وغیرہ جانور کے گزرنے سے نماز کا حکم دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر نماز پڑھتے ہوئے آگے سے بلی گزر جائے تو نماز کا کیا حکم ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

نماز ہو جائے گی ۔ نمازی کے آگے سے بلی کے گزرنے سے نماز پر کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے : ولومر مار في موضع سجوده لا تفسد 66 ترجمہ : اور اگر کوئی گزرنے والا، نمازی کے موضع سجود سے گزر جائے تو نماز فاسد نہیں ہوگی ۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحه 104 ، مطبوعہ : بیروت) مبسوط سرخسی میں ہے "وإن مر بين يديه مار من رجل أو امرأة أو حمار أو كلب لم يقطع صلاته عندنا" ترجمہ : اور اگر کوئی گزرنے والا، نمازی کے سامنے سے گزرا یعنی مرد، عورت، گدھا یا کتا ( الغرض کوئی بھی) تو ہمارے نزدیک اس کی نماز نہیں ٹوٹے گی ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.