Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قرض کی وجہ سے خودکشی کرنا
Question
قرض کی وجہ سے خود کشی کرنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا قرض کی وجہ سے خود کشی کرنا جائز ہے؟ جواب
Answer (beginning)
کسی بندے پر قرض وغیرہ ہو یا نہ ہو، بہر حال خود کشی ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ یہ یادر ہے کہ جب کوئی آدمی بے روزگار، قرض دار و غیرہ ہو تو شیطان ہمدرد بن کر آتا اور بہکاتا ہے کہ تم اتنے پریشان ہو تو آخر خود کشی کیوں نہیں کر لیتے کہ ان جھنجھٹوں سے جان چھوٹے ۔ ایسی صورت حال میں آدمی بالکل ٹھنڈے دماغ سے وسوسوں کو ر ذ کرے اور خود کشی کے دنیوی نقصانات اور اخروی عذابات کو اس طرح خیالات میں دہرائے ! یہ فعل اللہ تعالی اور اس کے پیارے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کو ناراض اور عزیز و اقارب کو غمگین کرنے والا اور ہمارے دشمنوں یعنی شیاطین وغیرہ کو راضی کرنے والا ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.