Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عائش نام کا مطلب اور یہ نام رکھنا کیسا؟

Answered by
مولانا محمد سعید عطاری مدنی
Fatwa no.
4267-WAT
Issued
02 ربیع الثانی 1447ء / 26 ستمبر 2025. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)

Question

عائش نام رکھنا دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ عائش نام رکھنا کیسا؟ جواب

Answer (beginning)

عائش کا معنی ہے : "خوشحال ، اچھی حالت والا ۔ " یہ نام رکھنا جائز ہے۔ المسجد میں ہے "العائش : فا ۔ کہا جاتا ہے : "ھو رجل عائش " اس کی حالت اچھی ہے ۔ (المنجد، صفحہ 597، خزینہ علم وادب، لاہور) القاموس الوحید میں ہے " العائش : خوش حال ۔ " (القاموس الوحید، صفحہ 1146، مطبوعہ : کراچی) وَاللَّهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم عام الامناء اهلسنت مجیب : مولانا محمد سعید عطاری مدنی فتوی نمبر : 4267-WAT تاریخ اجراء : 02 ربیع الثانی 1447ء / 26 ستمبر 2025.

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.