Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ناپاکی کی حالت میں جنازہ گاہ جانے کا حکم
- Answered by
- مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4265-WAT
Question
ناپاکی کی حالت میں جنازہ گاہ جانا کیسا ؟ جواب نا پاکی کی حالت میں جنازہ گاہ جانے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی)
Answer (beginning)
ناپاکی کی حالت میں جنازہ گاہ جانا، جائز ہے۔ البتہ جنازہ پڑھنے کے لئے نجاست حقیقیہ اور حکمیہ دونوں سے پاک ہونا شرط تنویر الابصار مع در مختار میں ہے ” (و) أما (المتخذلصلاة جنازة أوعيد) فهو(مسجد في حق جواز الاقتداء) وإن انفصل الصفوف رفقا بالناس (لا في حق غيره) به يفتى نهاية (فحل دخوله لجنب و حائض) ترجمہ : بہر حال جو جگہ نماز جنازہ یا نماز عید کے لئے بنائی گئی ہے تو اقتدا کے جائز ہونے میں وہ مسجد کی طرح ہے ، اگر چہ صفوں میں فاصلہ ہو، یہ حکم لوگوں کی آسانی کے لئے ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.