Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اقرار نام رکھنا
- Fatwa no.
- 4264-WAT
- Issued
- 03 ربيع الآخر 1447ھ / 27 ستمبر 2025ء علم الافتاء اهلسنت
Question
اقرار نام رکھنا کیسا ؟ جواب اقرار نام رکھنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی)
Answer (beginning)
اقرار کا معنی ہے : "قبول، اعتراف، بیان اور منظور وغیرہ ۔ " یہ نام رکھنا جائز ہے ۔ فیروز اللغات میں ہے " اقرار : ہاں ۔ ہامی - قبول - منظور - قول و قرار ۔ عہد و پیمان ۔ " (فیروز اللغات، صفحه 110، فیروز سنز، لاہور) القاموس الوحید میں ہے الا قرار : اقرار ۔ اعتراف ، بیان، ڈکلریشن ۔ " (القاموس الوحید، صفحہ 1295، مطبوعہ کراچی) البتہ ! بہتر یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام ، صحابه کرام علیہم الرضوان اور صالحین میں سے کسی کے نام پر نام رکھا جائے کہ حدیث پاک میں نیک لوگوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے اور امید ہے کہ نیک ہستیوں کے ناموں پر نام رکھنے سے صاحب نام کی برکت بچے کے شامل حال…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.