Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نکاح کے کئی سال بعد رخصتی ہو تو دوبارہ نکاح کا حکم
- Answered by
- مولانا محمد حسان عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4259-WAT
- Issued
- 29 ربیع الاول 1447ھ / 23 ستمبر 2025ء
Question
نکاح کے کئی سال بعد رخصتی ہو تو کیا دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہوگا ؟ دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) نکاح کے کئی سال بعد رخصتی ہو تو کیا دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہوگا ؟ جواب
Answer (beginning)
اگر نکاح کو ختم کرنے والی کوئی چیز نہ پائی گئی ہو تو پہلا نکاح کافی ہے ، محض لمبا عرصہ دور رہنے کی وجہ سے دوبارہ نکاح کرنا ضروری نہیں ۔ ہاں ! احتیاطا دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو اس میں حرج نہیں بلکہ احتیا طا نکاح ویسے بھی وقتا فوقتا کرتے رہنا چاہیے ، اور اس کے لیے مہر رکھنا ضروری نہیں ۔ ردالمختار میں ہے والاحتياط أن يجدد الجاهل إيمانه كل يوم ويجدد نكاح امرأته عند شاهدين في كل شهر مرة أو مرتين، إن الخطأ وإن لم يصدر من الرجل فهو من النساء كثير“ ترجمہ : اور احتیاط یہ ہے کہ جاہل شخص روزانہ تجدید ایمان کرے اور ہر مہینے میں ایک یا دو مرتبہ اپنی بیوی سے دو گواہوں کے سامنے تجدید نکاح بھی کرے کیونکہ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.