Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دولہا کو پہنائے جانے والا ہار بیچنے کا حکم

Answered by
مولانا محمد حسان عطاری مدنی
Fatwa no.
4258-WAT
Issued
01 ربیع الثانی 1447ء / 25 ستمبر 2025. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)

Question

دولہا کو پہنائے جانے والے ہار بیچنا دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) میری پھولوں کے ہاروں کی دکان ہے ، لوگ میرے پاس آتے ہیں اور پھولوں کا ہار خرید کر اپنے متعلقہ دولہا یا دلہن یا ان کے گھر والوں کے گلے میں ڈالتے ہیں، ہوتا یہ ہے کہ جب یہ لوگ ہار خرید کر لے جا کر دولہا یا دلہن وغیرہ کو دے دیتے ہیں تو وہ لوگ دوبارہ بار ہم کو بیچنے آتے ہیں، تو ہم وہی ہار دوبارہ ان سے مناسب قیمت پر باہمی رضامندی سے خرید لیتے ہیں ، کیا یہ جائز ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں وہی ہار دوبارہ خریدنا جائز ہے ، وجہ یہ ہے کہ جب آپ نے ہار بیچ کر گاہک کو قبضہ دے دیا تو وہ اس کا مالک ہو گیا اور مالک کو اپنی ملک میں مکمل جائز تصرف کا اختیار ہوتا ہے تو اس گاہک نے دولہا یا دلہن وغیرہ کو ہار پہنا دیا اور ہمارے یہاں اس سے تملیک (مالک بنا نا ) ہی مقصود ہوتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ دولہا یا دلہن کو ہار پہنانے کے بعد وہ ا س ہار کا کیا کرتے ہیں، اس سے کوئی تعرض ( سروکار) نہیں کرتا، لہذا جب وہ دولہا یا دلہن اس کے مالک ہیں تو ان کو بھی اپنی ملک میں مکمل جائز تصرف کا اختیار حاصل ہے ، تو وہ اس ہار کو کسی کو بھی بیچ سکتے ہیں ، لہذ آپ بھی اس کو خرید سکتے ہیں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.