Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تصاویر و مووی بنانے والے کی کمائی کا حکم

Answered by
مولانا اعظم عطاری مدنی
Fatwa no.
4254-WAT
Issued
28 ربیع الاول 1447ھ /22 ستمبر 2025ء

Question

تصاویر و مووی بنانے والے کی کمائی کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا جاندار فوٹو گرافی کرنے اور مووی بنانے والوں کی کمائی حلال ہوتی ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

جائز و حلال پروگرامز کی فوٹوگرافی (جبکہ اس کا پرنٹ نہ نکالا جائے) اور مووی بنانا، جائز ہے جبکہ کوئی اور مانع شرعی نہ ہو کہ یہ تصویر کے حکم نہیں ہے ، جس طرح شیشے میں محض عکس ہوتا ہے ، یہ بھی اسی طرح کا محض عکس ہی ہے ۔ لیکن اگر اس سے مراد جاندار کی تصاویر کو پرنٹ کرنا اور چھاپنا ہے جیسے شادی بیاہ یا مختلف پروگرامز کی تصاویر کے پر نڈالم تیار کیے جاتے ہیں یا پھر بے پردہ نامحرم عورتوں کی مووی بنانا ہو ، یونہی گانے باجوں، فلموں کی مووی بنا نا مراد ہے تو یہ ناجائز و گناہ ہے اور اس کی کمائی بھی ناجائز ہے کہ یہ گناہ پر اجرت لینا ہے جو کہ حلال نہیں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.