Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

حضور علیہ الصلاۃ و السلام کے لیے لفظ "مکھڑا" استعمال کرنا

Fatwa no.
4252-WAT
Issued
28 ربیع الاول 1447ء / 22 ستمبر 2025ء

Question

حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے لیے لفظ مکھڑا استعمال کرنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) نعتوں میں پیارے آقا صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کے لیے لفظ "مکھڑا استعمال کرنے کا کیا حکم ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لفظ "مکھڑا “ استعمال کرنا مطلقاً ممنوع ہے کیونکہ مکھڑا تصغیر ہے مکھ کی ، اور تصغیر والے الفاظ ، اس بارگاہ عالیشان کے ہر گزلا ئق نہیں ۔ "کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب کتاب میں ہے یہ قاعدہ یا درکھ لیجیے کہ جس کسی چیز کی نسبت تاجدار حرم ، شہنشاہ عرب و عجم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے ہو ، وہ معظم و محترم ہے ، لہذا اس کی تصغیر مطلقاً ممنوع ہے ۔ مثلاً یہی کمل کی تصغیر کملیا ، مکھ کی مکھڑا ، آنکھوں کی انکھڑیاں ، نگر کی نگریا ہے ۔ بارگاہ محبوب رب ذوالجلال عز وجل وصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم میں اس طرح کے تصغیر والے الفاظ کا استعمال ممنوع ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.