Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

والدین کا حکم ماننے کے متعلق وضاحت

Answered by
مولانا محمد حسان عطاری مدنی
Fatwa no.
4250-WAT
Issued
26 ربیع الاول 1447ھ /20 ستمبر 2025ء

Question

والدین کا حکم ماننے کے متعلق وضاحت دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ والدین کا حکم ماننا کس حد تک ضروری ہے ، بسا اوقات والدہ باہر سے سبزی وغیرہ لانے کا کہتی ہیں ، اس حوالے سے حکم شرع واضح کر دیں ۔ جواب

Answer (beginning)

جائز اور مباح امور میں والدین کی اطاعت بقدر طاقت واجب ہے ۔ ہاں ! ناجائز امور میں کسی کی اطاعت کرنا جائز نہیں ۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر والدہ باہر سے سبزی وغیرہ لانے کا کہیں یا اسی طرح کوئی اور جائز حکم دیں تو فورا حکم پر عمل کیا جائے ۔ تفسیرات احمدیہ میں ملا جیون رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ” اطاعتهما فی غیر المعاصی فواجب بقدر ما امکن “ ترجمہ : گناہوں کے کاموں کے علاوہ ( یعنی جائز کاموں) میں، بقدر امکان ( یعنی اپنی طاقت کے مطابق) والدین کی اطاعت کرنا واجب ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.