Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نبی کریم کے علمِ غیب اور تکمیل قرآن کی تشریح
Question
حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے علم غیب کے متعلق ایک حدیث و قول کی وضاحت دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ اللہ پاک اپنا دست قدرت میرے کندھوں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے میں محسوس کی اور میں نے ہر چیز کو جان لیا ۔ اور دوسری طرف یہ قول ہے کہ قرآن کی تکمیل کے ساتھ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا علم مکمل ہوا ۔ بظاہر ان میں تضاد لگ رہا ہے ، اس کا کیا جواب ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
سوال میں مذکورہ حدیث پاک اور قول دونوں درست ہیں ان میں کوئی تضاد نہیں ۔ کیونکہ حدیث پاک میں ہر چیز کو جان لینے سے مراد تمام چیزوں کا مشاہدہ کرنا ہے ، اور نزول قرآن کے ساتھ علم مکمل ہونے سے مرادان مشاہدہ کی ہوئی چیزوں کا تفصیل سے علم حاصل ہونا ہے ، جیسا کہ اللہ پاک نے حضرت آدم علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کو پیدا فرما کر ان کو تمام چیزیں دکھا دیں، بعد میں ان کے نام بتائے ، یعنی پہلے مشاہدہ تھا اور بعد میں بیان ۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : "رأيت ربي عز و جل في أحسن صورة، قال: فيم يختصم الملأ الأعلى؟
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.