Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بے نمازی ہونے سے نکاح پر اثر پڑتا ہے یا نہیں؟
- Answered by
- مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4246-WAT
- Issued
- 15 ربیع الاول 1447ھ/09 ستمبر 2025ء
Question
بے نمازی ہونے سے نکاح پر اثر پڑتا ہے یا نہیں ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا میاں بیوی میں سے کوئی ایک بے نمازی ہو جائے تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
جان بوجھ کر نماز چھوڑنا سخت ناجائز و حرام اور گناہ کبیرہ ہے لیکن کفر نہیں ہے جبکہ فرض نماز کی فرضیت کا انکار نہ کرے ، اسے ہلکا اور بے قدر نہ جانے اور قضا کرنے کو حلال نہ سمجھے، لہذا اس کی وجہ سے نکاح بھی نہیں ٹوٹے گا۔ مومن کسی گناہ کبیرہ کے سبب اسلام سے خارج نہیں ہوتا ، چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : "اہلسنت کا اجماع ہے کہ مومن کسی کبیرہ کے سبب اسلام سے خارج نہیں ہوتا ایسی جگہ نصوص کو علی اطلاقبا کفر و شرک مصطلح پر حمل کرنا اشقیائے خوارج کا مذہب مطرود ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.