Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نابالغ بچے کا ولی کی اجازت کے بغیر پیر کامل سے بیعت ہونا
- Answered by
- مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4243-WAT
- Issued
- 15 ربیع الاول 1447ھ/09 ستمبر 2025ء
Question
نابالغ بچے کا ولی کی اجازت کے بغیر پیر کامل سے بیعت ہونا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) ایک شخص نے نابالغی لیکن با شعوری کی عمر میں ایک جامع شرائط پیر سے بیعت کے لیے والدہ سے اجازت لی ، تو ماں نے کہا اپنے والد سے پوچھ لیں ۔ پھر والد سے اجازت لیے بغیر مرید ہو گیا ۔ پھر پیر صاحب کے وصال فرمانے کے بعد اس طرف توجہ گئی کہ والد سے اجازت نہیں لی تھی، تو اب کیا کرنا چاہیئے ؟ اگر اب والد کو اطلاع دے دیں تو وہی بیعت باقی رہے گی یا دوسرے پیر سے نئی بیعت کرنی ہوگی ؟ اور والد بھی وفات پاچکے ہوں ، تو کیا حکم ہوگا ؟ جواب
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں جب سمجھدار نا بالغ نے جامع شرائط پیر صاحب سے بیعت کرلی ، تو وہ ان کا مرید ہو گیا، اب ولی ( یعنی سر پرست مثلا باپ) کی اجازت سے دوبارہ بیعت کی ضرورت نہیں ، کیونکہ جامع شرائط پیر سے مرید ہونا فائدے والا کام ہے اور جس کام میں نابالغ کا فائدہ ہو، وہ ولی کی اجازت کے بغیر بھی درست ہوتا ہے ۔ فتاوی رضویہ میں ہے نا بالغ اگر نا سمجھ ہے تو بے اجازت ولی اسے مرید کرنے کے کوئی معنی نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ اور اگر عاقل ہے اور اس کی رغبت دیکھے تو مرید کر سکتا ہے ، اجازت والدین کی حاجت نہیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.