Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
پیر صاحب کے بدعقیدہ خلیفہ سے تعلق رکھنا کیسا؟
Question
پیر صاحب کے بد عقیدہ خلیفہ سے تعلقات رکھنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا جامع شرائط پیر صاحب کے انتقال کے بعد بیعت ختم ہو جاتی ہے ؟ اگر نہیں تو ایک شخص کسی کامل اور جامع شرائط پیر کا مرید ہے ، پیر صاحب کے انتقال کے بعد ان کا کوئی گدی نشین اور خلیفہ بن گیا جو جامع شرائط نہیں، بلکہ گمراہ کن عقائد والا ہے تو ایسی صورت میں کیا اس خلیفہ سے تعلقات رکھ سکتے ہیں اور تعویذ وغیرہ لے سکتے ہیں ؟ جواب
Answer (beginning)
صورت مسئولہ میں اگر وہ پیر صاحب واقعی مرشد کامل اور جامع شرائط تھے تو اگر چہ ان کا وصال ہو چکا ہو، ان سے بیعت باقی ہے ، اسی وجہ سے کسی دوسرے پیر سے مرید ہونے کی ممانعت ہے ، بلکہ اس نسبت کو برقرار رکھنا ضروری ہے ۔ باقی جہاں تک بات ہے گمراہ گدی نشین کی تو اس سے کسی طرح کا تعلق رکھنا جائز نہیں بلکہ ایسے گدی نشین سے تعلق رکھنا دنیا و آخرت کی بربادی کا سامان ہے ۔ تنبیہ : کامل پیر کے لئے چار شرائط ہیں، کسی سے بھی بیعت کرنے سے پہلے ان کا لحاظ رکھنا ضروری ہے ، جس شخص میں ان میں سے ایک بھی شرط کم ہو ، اس کی بیعت جائز نہیں اور خود اس کا پیر بنا بھی جائز نہیں ہے ، وہ شرائط یہ ہیں : (1) سنی صحیح العقیدہ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.