Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
یہ جملہ بولنا کیسا کہ اللہ دیتے نہیں تھکتا؟
- Fatwa no.
- 4230-WAT
- Issued
- 22 ربیع الاول 1447ھ / 16 ستمبر 2025ء
Question
یہ کہنا کیسا کہ " اللہ دیتے نہیں تھکتا " ؟ جواب یہ جملہ بولنا کیسا کہ اللہ دیتے نہیں تھکتا ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی)
Answer (beginning)
یہ کہنا جائز ہے ، کیونکہ یہاں مقصود اللہ پاک کی عطا اور اس کے نوازنے کی وسعت کو بیان کرنا ہے ، اس کو اردو میں نہ تھکنے سے تعبیر کیا جاتا ہے ، لہذا اس میں حرج نہیں ۔ قرآن پاک میں بھی اس طرح زمین و آسمان کی تخلیق سے متعلق الفاظ کو ذکر کیا گیا ہے ۔ اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے : (وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَ مَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوْبِ) ترجمہ کنز العرفان : اور بیشک ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں بنایا اور ہمیں کوئی تھکاوٹ نہ ہوئی ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.