Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
تنہا نماز پڑھتے ہوئے سنت موکدہ چھوڑنے کا حکم
- Answered by
- مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4229-WAT
- Issued
- 22 ربیع الاول 1447ھ / 16 ستمبر 2025ء
Question
تنہا نماز پڑھتے ہوئے سنت موکدہ چھوڑنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) میری ظہر کی نماز جماعت سے رہ گئی اور ابھی میں نے گھر میں نماز پڑھنی ہو تو کیا میں صرف فرض پڑھ سکتا ہوں ؟ جواب
Answer (beginning)
پہلے تو یہ بات یاد رکھیں کہ عاقل، بالغ ، آزاد، قادر شخص پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا واجب ہے ، بلاعذر شرعی ایک بار بھی جماعت چھوڑنے والا گناہ گار ہے ۔ مسجد محلہ میں جماعت ہو جائے تو مرد کے لئے دوسری مسجد میں باجماعت نماز پڑھنا افضل ہے اور اگر دوسری مسجد میں بھی جماعت نہ ملے یا دوسری مسجد ہی نہ ہو تو اس کے لیے گھر کی بنسبت محلہ ہی کی مسجد میں نماز پڑھنا افضل ہے ۔ اور گھر میں نماز پڑھیں یا مسجد میں بہر صورت فرض کے ساتھ ساتھ سنت مؤکدہ ( یعنی چار رکعت ظہر کے فرضوں سے پہلے اور دو رکعت فرضوں کے بعد) بھی پڑھنی ہوں گی ، جماعت چھوٹ جانے پر گھر میں نماز پڑھنے کی صورت میں سنت مؤکدہ معاف نہیں ہوتی ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.