Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بارش کے پانی سے وضو کرنے کا حکم
- Fatwa no.
- 4227-WAT
- Issued
- 22 ربیع الاول 1447ھ / 16 ستمبر 2025ء
Question
بارش کے پانی سے وضو کرنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) بارش کا پانی ڈرم میں ڈالا، کیا اب اس سے فرض و منو کر سکتے ہیں ؟ جواب
Answer (beginning)
بارش کے پانی سے وضو ہو جاتا ہے، لہذا اگر بارش کا پانی کسی پاک برتن وغیرہ میں جمع کر لیا جائے ، تو اس سے وضو کیا جاسکتا ہے۔ بارش کے پانی سے وضو ہو جانے کے متعلق تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے ( يرفع الحدث) مطلقاً (بماء مطلق۔۔ كماء سماء وأودية وعيون و آبار وبحار) ترجمہ : مطلق پانی سے مطلقاً حدث دور ہو جاتا ہے ، جیسے بارش ، ندیوں، چشموں ، کنووں اور سمندروں کا پانی (تنویر الابصار مع الدر المختار، صفحه 30 ، دار الكتب العلمية ، بيروت) بہار شریعت میں ہے تینھ ، ندی، نالے، چشمے ، سمندر، دریا، کوئیں اور برف ، اولے کے پانی سے وضو جائز ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.