Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کشتی کھیلنے کا حکم
- Answered by
- مولانا محمد سعید عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4222-WAT
- Issued
- 19 ربیع الاول 1447ء /13 ستمبر 2025ء
Question
کشتی کھیلنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ کشتی کھیلنا کیسا ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
اگر کشتی صحیح مقصد کے لئے کھیلی جائے جیسے ورزش، جسم کی تندرستی وغیرہ، توکشتی کھیلنا فی نفسہ جائز ہے اور اگر اس نیت سے ہو کہ جسم میں قوت آئے اور کفار سے لڑنے میں کام دے تو ثواب کا کام ہے ، جبکہ کوئی اور شرعی خرابی نہ ہو، جیسے نمازیں قضا ہونا، ستر کا ظاہر ہونا، جوالگا نا وغیرہ ، لیکن ! اگر صرف لہو و لعب کے طور پر کھیلی جائے تو مکروہ اور اگر ستر کھول کر کشتی لڑی جائے ، جیسا کہ آج کل عموما ہوتا ہے تو نا جائز و حرام ہے ، اسی طرح اس کی وجہ سے کوئی نمازقتنا کرنا بھی جائزہ نہیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.