Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
صاحب نصاب مریضہ کا زکوٰۃ کے پیسوں سے علاج کروانے کا حکم
- Answered by
- مولانا محمد سعید عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4220-WAT
- Issued
- 19 ربیع الاول 1447ھ / 13 ستمبر 2025ء علم الافتاء اهلسنت
Question
صاحب نصاب مریضہ کا زکوۃ کے پیسوں سے علاج کروانے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ کینسر کی مریضہ ہیں جو صاحب نصاب ہیں اور زکوۃ کی مستحق نہیں تو کیا وہ اس ہسپتال سے علاج کروا سکتی ہیں، جہاں زکوۃ کے ڈونیشن سے فری علاج کیا جاتا ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
صاحب نصاب کا زکوۃ لینا جائز نہیں ہے ، اگر چہ علاج کے لئے ہی ہو، لہذا اس کینسر کی مریضہ کا زکوۃ کی رقم وغیرہ سے علاج کروانا جائز نہیں ہے ، البتہ اگر وہ اپنی رقم سے علاج کرواتی رہیں یہاں تک کہ رقم اتنی خرچ ہو جائے کہ وہ مستحقہ زکوۃ ہو جائیں (شرعی فقیر ہو جائیں اور وہ سید یا ہاشمی بھی نہ ہوں) تو وہ مستحقہ زکوۃ ہونے کی وجہ سے زکوۃ کی رقم سے علاج کروا سکتی ہیں۔ تنویر الابصار میں ہے ”ھی تملیک جزء مال عینه شارع من مسلم فقیر غیر ہاشمی ولا مولاه مع قطع المنفعة عن الملک من کل وجه الله تعالی “ ترجمہ : وہ ( یعنی زکاۃ) اللہ عزوجل کے لیے مال کے ایک حصہ کا جو شارع نے مقرر کیا ، مسلمان فقیر کو مالک کر دینا…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.