Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بچے کا نام تبدیل کرنے کے بعد دوبارہ عقیقہ کرنا
- Answered by
- مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4216-WAT
Question
بچے کا نام تبدیل کرتے وقت دوبارہ عقیقہ کرنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) ہم بچے کا نام رکھنے کے بعد اس کا عقیقہ کر چکے ہیں اور اب اس کا نام چھیج کرنا چاہتے ہیں ، کیا نام چینج کرنے کے بعد دوبارہ عقیقہ کرنا پڑے گا ؟ جواب
Answer (beginning)
عقیقے کا مقصد بچے کی پیدائش کی صورت میں ملنے والی نعمت کا شکر ادا کرنا ہوتا ہے ۔ نیز عقیقہ کرنا واجب نہیں، بلکہ مستحب ہے ۔ بہر حال آپ جب ایک دفعہ بچے کا عقیقہ کر چکے ہیں تو سنت ادا ہو گئی ۔ اب نام چینج کریں یا نہ کریں، بہر صورت دوبارہ عقیقہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمدامجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "بچہ پیدا ہونے کے شکریہ میں جو جانور ذبح کیا جاتا ہے اوس کو عقیقہ کہتے ہیں ۔ حنفیہ کے نزدیک عقیقہ مباح و مستحب ہے ۔ " (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 355، مکتبہ المدینہ ، کراچی) فتاوی رضویہ میں ہے ”عقیقہ شکر نعمت ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.