Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جس ٹشو سے پیشاب صاف کیا اسے جیب میں رکھ کر نماز پڑھنا

Answered by
مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
Fatwa no.
4215-WAT
Issued
17 ربیع الاول 1447ء /11 ستمبر 2025ء

Question

جس ٹشو سے پیشاب کے قطرے صاف کئے ، اسے جیب میں رکھ کر نماز پڑھنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر پیشاب کے قطرے آجائیں اور انہیں ٹشو پیپر سے پونچھ کر جیب میں رکھ لیا توکیا ایسا ٹشو پیپر جیب میں رکھ کر نماز پڑھ سکتے ہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

مسجد میں تو پیشاب کے قطروں والا ٹشو لے کر جانے کی بالکل اجازت نہیں ہے ۔ الدر المختار شرح تنویر الابصار میں ہے "کرہ تحریما۔۔۔(ادخال نجاسة فيه ) وعليه (فلا يجوز استصباح بدهن نجس فيه)" ترجمہ : مسجد میں نجاست داخل کرنا مکروہ تحریمی ہے ۔ اور اسی بنا پر مسجد میں نجس تیل سے چراغ جلانا جائز نہیں ہے ۔ ( الدر المختار مع رد المحتار، جلد 2، صفحہ 517، مطبوعہ: کوئٹہ) اور اسے جیب میں رکھ کر نمازب بھی نہیں پڑھنی چاہیے ، اگرچہ تھوڑی ہی نجاست ہو اور جہاں تک نماز ہونے نہ ہونے کا مسئلہ ہے تو اس کے متعلق درج ذیل تفصیل ہے : (1) اگر اس ٹشو پیپر پر ایک درہم کی مقدار سے زائد پیشاب کے قطرے لگے ہوئے ہیں تو اس کو جیب…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.