Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عقیقہ میں صدقہ کی جانے والی چاندی کا مستحق کون؟

Fatwa no.
4214-WAT
Issued
16 ربیع الاول 1447ء 10 ستمبر 2025

Question

حقیقہ میں صدقہ کی جانے والی چاندی کسے دی جائے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) عقیقہ میں جو بالوں کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کی جاتی ہے ، کیا یہ صدقہ شرعی فقیر کو دینا ہی لازم ہے ؟ یا کسی بھی مستحق کو دے سکتے ہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

عقیقہ میں بچوں کے بالوں کے برابر جو چاندی صدقہ کی جاتی ہے ، یہ شرعی فقیر کو ہی دینا لازم نہیں، کیونکہ اس کی حیثیت نفلی صدقہ کی ہے اور نفلی صدقہ میں شرعی فقیر کو دینا لازم نہیں، ہر نیکی کے کام میں دے سکتے ہیں ، یہاں تک کہ ثواب کی نیت سے غنی کو بھی دے سکتے ہیں لیکن غنی کو دینے میں فقیر کے مقابلے میں ثواب کم ہے ۔ نومولود بچے کے بالوں کے برابر چاندی یا سونا صدقہ کرنا مستحب ہے ، جیسا کہ فتاوی شامی میں ہے " يستحب لمن ولد له ولد أن يسميه يوم أسبوعه ويحلق رأسه ويتصدق عند الأئمة الثلاثة بزنة شعره فضة أو ذهبا ترجمہ : جس کے ہاں بچے کی ولادت ہو، اس کے لیے مستحب ہے کہ بچے کا ساتویں دن نام رکھے ، اس کے سر…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.