Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
چالیس دن پورے ہونے سے پہلے چالیسواں کرسکتے ہیں؟
- Answered by
- مولانا محمد فراز عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4213-WAT
- Issued
- 16 ربیع الاول 1447ھ / 10 ستمبر 2025ء عالم الاحياء الهالات
Question
چالیس دن پورے ہونے سے پہلے چالیسواں کرنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) چالیسویں میں پورے چالیس دن نہیں کیے جاتے، بلکہ کبھی پہلے کر لیا جاتا ہے اور کبھی بعد میں ۔ رہنمائی فرمائیں کہ صحیح طریقہ کیا ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
ایصال ثواب جس دن ، جس وقت بھی کیا جائے وہ ثواب پہنچتا ہے ، اور اس کے لئے لوگوں کی طرف سے جو دن اور تاریخ مقرر کی جاتی ہے ، وہ فقط مسلمانوں کی آسانی کے لئے کی جاتی ہے ، ایسا نہیں ہے کہ ایصال ثواب چالیسویں دن ہی کرنا ضروری ہے ، اس سے پہلے یا بعد نہیں کر سکتے ، لہذا چالیس دن سے پہلے یا بعد میں جب بھی آسانی ہو ایصال ثواب کیا جاسکتا ہے ۔ امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : " اموات کو ایصال ثواب قطعاً مستحب ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : " من استطاع منكم ان ينفع اخاه فلينفعه " ترجمہ : جو اپنے بھائی کو نفع پہنچا سکے تو چاہئے کہ اسے نفع پہنچائے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.