Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دوسری رکعت کے رکوع میں شامل ہونے کی وجہ سے سجدہ سہو کرنا

Fatwa no.
4212-WAT
Issued
16 ربیع الاول 1447ھ /10 ستمبر 2025ء

Question

دوسری رکعت کے رکوع میں شامل ہونے کی وجہ سے سجدہ سہو کرے گا یا نہیں ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی شخص نے امام کو دوسری رکعت کے رکوع میں پایا توکیا اس پر نماز کے آخر میں سجدہ سہو کرنا لازم ہو گا ؟ جواب

Answer (beginning)

سجدۂ سہو کسی واجب کے بھولے سے چھوٹنے کی تلافی کے طور پر کیا جاتا ہے ، محض امام کے ساتھ دوسری رکعت میں ملنے کی وجہ سے سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا۔ البتہ امام سے اگر سہو ہوا اور اس وجہ سے امام سجدۂ سہو کرے تو مسبوق سجدۂ سہو میں اس کی پیروی کرے گا ، اگر چہ اس کے ملنے سے پہلے سہو واقع ہوا ہو ۔ تنویر الابصار و در مختار میں سجدہ سہو کے متعلق ہے " (يجب۔۔۔)۔۔(بترك)۔۔۔ (واجب) مما مر في صفة الصلاة (سهوا)" ترجمہ : صفۃ الصلاۃ کے عنوان کے تحت جو واجبات پیچھے مذکور ہوئے ان میں سے کسی واجب کو بھول کر چھوڑنے کی وجہ سے سجدہ سہو واجب ہو تا ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.