Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بچے کا نام صارم رکھنا
- Fatwa no.
- 4210-WAT
- Issued
- 18 ربیع الاول 1447ء /12 ستمبر 2025ء
Question
بچے کا نام صارم رکھنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا میں اپنے بچے کا نام محمد صارم رکھ سکتا ہوں ؟ جواب
Answer (beginning)
صارم کا ایک معنی ہے : "بہادر آدمی ، لہذا یہ نام رکھنا جائز و درست ہے اور اس کے ساتھ لفظ محمد بھی لگانا، درست ہے۔ فیروز اللغات میں ہے " صارم : (1) کاٹ کرنے والی تلوار (2) بہادر آدمی ۔ “ (فیروزاللغات، صفحہ 907، فیروز سنز، لاهور) البتہ ! بیٹے کا نام رکھنے کے حوالے سے بہتر یہ ہے کہ اولا بیٹے کا نام صرف "محمد" رکھیں، کیونکہ حدیث پاک میں نام محمد رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا نام محمد رکھنے کی ہے ۔ اور پھر پکارنے کے لیے ساتھ میں کوئی نام مثلاً صارم رکھ لیجیے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.