Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

میّت کتنا مال چھوڑے تو وراثت تقسیم ہوگی؟

Answered by
مولانا محمد آصف عطاری مدنی
Fatwa no.
4206-WAT
Issued
11 ربیع الاول 1447ھ/ 05 ستمبر 2025ء

Question

منیت کتنا مال چھوڑے تو وراثت تقسیم ہوگی ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) میت کتنا مال چھوڑے گی تو وراثت تقسیم ہوگی ؟ اگر والدہ نے ایک سونے کی چین اور دو تین بالیاں چھوڑی ہوں تو کیا یہ سب اولاد میں تقسیم ہوں گی ؟ جواب

Answer (beginning)

وراثت سے پہلے جن امور کی ادائیگی ضروری ہے (جیسے اگر کفن دفن میت کے مال سے ہی کرنا ہو تو اس کی ادائیگی لیکن شوہر موجود ہو اور موت کے وقت کوئی ایسی چیز نہیں پائی گئی کہ بیوی کا نفقہ ساقط ہو تو بیوی کے مال سے کفن دفن کا خرچہ نہیں کیا جائے گا بلکہ شوہر کے ذمہ لازم ہے ، اور پھر اگر قرض ہے تو پہلے اس کی ادائیگی کی جائے گی اور اس کے بعد مال بچے تو اگر میت نے کوئی وصیت کی تھی تو مال کے تہائی حصے سے وصیت پوری کی جائے گی ، ) ان کی ادائیگی کرنے کے بعد جتنا بھی مال بچے ، چاہے وہ تھوڑا ہو یا زیادہ ، سونے کی چین ہو یا بالیاں ، وہ سب میت کے ورثا میں تقسیم ہوگا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.