Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ایک عورت کے دعوے سے وصیت کا ثبوت

Fatwa no.
4202-WAT
Issued
05 ربیع الاول 1447 / 30 اگست 2025

Question

ایک عورت کے دعوے سے وصیت کا ثبوت دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) فوت شدہ کی وصیت کا گھر والوں کو بالکل ہی پتا نہ ہو ۔ گھر والوں کے علاوہ کوئی عورت آکر بتائے کہ فوت شدہ نے مجھے وصیت کی تھی، جیسا کہ میری ساس کی بالیاں تھیں، تو انہوں نے اپنے گھر والوں میں سے کسی کو بھی وصیت نہیں کی ، جبکہ میری ایک کزن کہتی ہیں کہ انہوں نے مجھے وصیت کی تھی کہ وہ بالیاں خالہ کو دینی ہیں ۔ رہنمائی فرمائیں کہ اس وصیت پر عمل کریں یا نہ کریں ؟ جواب

Answer (beginning)

وصیت کے ثبوت کے لئے شرعی گواہ یعنی شرعی تقاضوں کے مطابق دو مردیا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی کا ہونا ضروری ہے ، صرف ایک عورت کی گواہی سے وصیت ثابت نہیں ہوتی ۔ اور سوال میں بیان کی گئی صورت میں چونکہ آپ کی کزن کے علاوہ کوئی بھی اس وصیت کا گواہ نہیں ہے ، لہذا فوت شدہ کے عاقل بالغ ورثا کو اختیار ہے کہ چاہیں ، تو اس وصیت کے دعوے کو تسلیم کرتے ہوئے وصیت کو نافذ کر دیں اور چاہیں تو اس وصیت پر عمل نہ کریں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.